کیسے سمجھاؤں گا ان کو کہ پری آئے گی
Danish Hayat (b. 1994)کیسے سمجھاؤں گا ان کو کہ پری آئے گی
میری باتوں پہ جنہیں صرف ہنسی آئے گی
آنکھ موندے ہوئے خلوت میں پڑا سوچتا ہوں
میری وحشت میں کبھی کوئی کمی آئے گی
اس نے سرگوشی میں اک رنج دیا اور کہا
آتے آتے ہی تجھے نوحہ گری آئے گی
بس اسی بات سے پہچان لیا جائے گا
مسکراؤں گا تو آنکھوں میں نمی آئے گی
دو جہاں طشت میں رکھ کر اسے لوٹا دوں گا
میرے حصے میں اگر تیری کمی آئے گی