مغرور محبت کی جزا راس نہ آئی
Habib Rehman (b. 1994)مغرور محبت کی جزا راس نہ آئی
چاہی تھی جو ہم نے وہ وفا راس نہ آئی
ہم نے تو ہر اک حکم پہ لبیک کہا تھا
پھر بھی اسے تسلیم و رضا راس نہ آئی
رخ موڑ لیا زخم کی عادت کو لگا کر
مجھ کو یہ جدائی بھی ذرا راس نہ آئی
جانا تھا مجھے تیری محبت سے پرے یوں
دیکھا تو مجھے خود کی دشا راس نہ آئی
کیوں عشق کی رحمانؔ نے یہ راہ چنی تھی
پھر اوس کو دوا ہو یا دعا راس نہ آئی