گلی سے گزروں تو اس پر بھی دھیان پڑتا ہے

Danish Hayat (b. 1994)

گلی سے گزروں تو اس پر بھی دھیان پڑتا ہے

وہ جس کا گھر مرے رستے میں آن پڑتا ہے

اب اس سے آگے کوئی شخص بھی نہیں رہتا

اب اس سے آگے تو خالی مکان پڑتا ہے

میں روز شب کا اکیلے عذاب سہتا ہوں

بدن پہ روز ہی تازہ نشان پڑتا ہے

ہماری راہ میں دیوار اب نہیں پڑتی

ہماری راہ میں اب آسمان پڑتا ہے

اس آئنے میں ترا عکس مستقل ہے حیاتؔ

وہ آئنہ جو مرے درمیان پڑتا ہے