Poetry
Poet
Meter
- شام کے تن پر سجی جو سرمئی پوشاک ہےہم چراغوں کی فقط یہ روشنی پوشاک ہےA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- لبوں پہ مسکان دل میں دہشت عجیب خلقت مری غزالہخطا پہ اپنے نہیں کرے ہے کبھی ندامت مری غزالہA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- وصل کا موسم ہو تو یہ سردیاں ہی ٹھیک ہیںہجر میں قربت کی یہ پرچھائیاں ہی ٹھیک ہیںA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھاخود کو تھوڑا بہت بدلنا تھاA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتاآدمی بس خدا نہیں ہوتاA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- اب کے موسم میں ترا شہر وہ کیسا ہوگامیری مرضی کے بنا چاند نکلتا ہوگاNaeem Sarmad (b. 1992)
- اک ترے وصل کے لئے مولاہجر کاٹے ہیں ان گنے مولاNaeem Sarmad (b. 1992)
- تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہےتمام سمتوں کو ایک جانب رکھا ہوا ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہےشب ہجر شب سے بھی پہلے بنی ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- خود کو مرشد مان لے پیارے کیوں اور کیا کا بھید سمجھاپنی صورت تکتا رہ اور پھر کیسا کا بھید سمجھNaeem Sarmad (b. 1992)
- سرخ مٹی کو ہواؤں میں اڑاتے ہوئے ہماپنی آمد کے لئے دشت سجاتے ہوئے ہمNaeem Sarmad (b. 1992)
- کاف سے نون تلک شور مچا وحشت ہےیعنی اس عہد میں جو کچھ بھی ہوا وحشت ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوستچھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوستNaeem Sarmad (b. 1992)
- کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کیخوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کیNaeem Sarmad (b. 1992)
- آنکھوں میں انتظار کی گھڑیاں لیے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں کتنے ہی ارماں لئے ہوئےKaleem Jazil (b. 1992)
- ابھی لطافت اردو زبان باقی ہےوہ بانکپن وہ کلام و بیان باقی ہےKaleem Jazil (b. 1992)
- چمن کی تازگی پھولوں کی دلکشی لے کرترے دیار میں آیا ہوں زندگی لے کرKaleem Jazil (b. 1992)
- مستی بھری وہ شام سہانی اٹھا کے لاجا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لاKaleem Jazil (b. 1992)
- نہ یہ بدلا نہ وہ بدلا نہ یہ دل کا جہاں بدلااگر بدلا یہاں کچھ تو فقط وہ مہرباں بدلاKaleem Jazil (b. 1992)
- یہ صحرائے محبت ہے یہاں سایہ نہیں کوئیگزرتے جا رہے ہیں سب مگر رکتا نہیں کوئیKaleem Jazil (b. 1992)
- اس غلاظت کو صاف کر دینامجھ کو دل سے معاف کر دیناChetan Panchal (b. 1992)
- پہلے مجھ کو فراز ہونا ہےپھر مجھے دل نواز ہونا ہےChetan Panchal (b. 1992)
- تیری دہلیز تک جو آیا تھادل ہی دل میں تو مسکرایا تھاChetan Panchal (b. 1992)
- جب کوئی اچھا کام کرتا ہوںماں کو پہلے سلام کرتا ہوںChetan Panchal (b. 1992)
- عبادت کی فراوانی غزل ہےمحبت ایک روحانی غزل ہےChetan Panchal (b. 1992)
- آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورناحیراں ہوئے بغیر اسے مت عبورناIftikhar Falak Kazmi (b. 1992)
- در و دیوار خودکشی کر لیںہم جو ناچار خودکشی کر لیںIftikhar Falak Kazmi (b. 1992)
- روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئےچور عہد سامری کے جل پری تک آ گئےIftikhar Falak Kazmi (b. 1992)
- ملبے سے جو ملی ہیں وہ لاشیں دکھائیےصاحب نوادرات کی شکلیں دکھائیےIftikhar Falak Kazmi (b. 1992)
- ہر مشکل آسان بنانے والا تھامیں پتھر کے پان بنانے والا تھاIftikhar Falak Kazmi (b. 1992)
- التمش میر مجھ کو قتل کرواپنی قربت کے شیریں خنجر سےKainaat (b. 1992)
- تمہاری قربت میں بیتا وقفہخمار بن کر مرے تنفس میں بے تحاشہ مہک رہا ہےKainaat (b. 1992)
- تمہیں مجھ سے محبت ہواور اس درجہ محبت ہوKainaat (b. 1992)
- مجھے مت کہو پھول باغ ارم کاکہ پھولوں کے حصہ اذیت بہت ہےKainaat (b. 1992)
- اپنی آنکھوں سے تباہی یہ نظارہ دیکھوںیعنی تجھ کو میں کسی اور کا ہوتا دیکھوںAadil Rahi (b. 1993)
- اس نے یہ فاصلہ اس واسطے رکھا ہوگاپاس آ کر مرے بیٹھے گا تو چرچا ہوگاAadil Rahi (b. 1993)
- اسے تم سے محبت ہے غلط فہمی میں مت رہنایہ بس دل کی شرارت ہے غلط فہمی میں مت رہناAadil Rahi (b. 1993)
- تجھے یاد کر کے بھلانے سے پہلےمیں رویا بہت مسکرانے سے پہلےAadil Rahi (b. 1993)
- تو نے ہی ہر قدم پہ دیا حوصلہ مجھےیا رب نہیں ہے تیرے سوا آسرا مجھےAadil Rahi (b. 1993)
- تیری ہر بات پہ تنقید نہیں کر سکتاہاں مگر جھوٹ کی تائید نہیں کر سکتاAadil Rahi (b. 1993)
- جسے ہم کہہ سکیں اپنا کوئی ایسا نہیں ملتاترے ہم نام ملتے ہیں کوئی تجھ سا نہیں ملتاAadil Rahi (b. 1993)
- جن لوگوں سے میری یاری ہوتی ہےان میں کوئی بات تو پیاری ہوتیAadil Rahi (b. 1993)
- کسک دل کی مٹانے میں ذرا سی دیر لگتی ہےکسی کا غم بھلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہےAadil Rahi (b. 1993)
- گرد جم جائے تو شیشہ نہیں دیکھا جاتایعنی تصویر کو دھندلا نہیں دیکھا جاتاAadil Rahi (b. 1993)
- میں نہ کہتا تھا مرے یار بدل جاتا ہےوقت کتنا بھی ہو دشوار بدل جاتا ہےAadil Rahi (b. 1993)
- ہجر کا سوگ منانا کبھی دریا رونایاد کر کے تجھے ہنسنا کبھی رونا روناAadil Rahi (b. 1993)
- ہے اثر اس طرح دل پر عشق کی تاثیر کاآج کل ہے حال جیسا وادئ کشمیر کاAadil Rahi (b. 1993)
- انہیں یقیں کہ کوئی رنج و غم نہیں مجھ کومجھے بھرم کہ مرا مسئلہ سمجھتے ہیںAadil Rahi (b. 1993)
- بس اک یہی تو خرابی ہے اس کی فطرت میںوہ مجھ کو یاد تو کرتا ہے پر ضرورت میںAadil Rahi (b. 1993)
- پتہ کیسے ہوں آخر ہجر کے اسباب دنیا کوترے ہونٹوں پہ خاموشی مرے حالات پوشیدہAadil Rahi (b. 1993)