لبوں پہ مسکان دل میں دہشت عجیب خلقت مری غزالہ
A.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)لبوں پہ مسکان دل میں دہشت عجیب خلقت مری غزالہ
خطا پہ اپنے نہیں کرے ہے کبھی ندامت مری غزالہ
سو جیسا چاہا بنایا رب نے بدن کا خاکہ یہ اس کی مرضی
ہر ایک ڈھب میں ہیں اپنے اپنے کساؤ کثرت مری غزالہ
قرار دے دے مجھے تو کافر نہ چھوٹ پائے گی یہ عبادت
رہے گی قدموں میں صرف تیرے یہ میری جنت مری غزالہ
نہیں ہے ممکن کہ کٹ سکے یہ خدا کا لکھا یہ سوچتا ہوں
وہ مل کہے مجھ سے کچھ تو میری بدل دے قسمت مری غزالہ
انا سے مانگوں جہاں سے مانگوں میں تجھ کو کس کس خدا سے مانگوں
بنی ہے میرے ہی جان و جی کی تو سخت آفت مری غزالہ
میں چاہتا ہوں بنا لے ساحلؔ مجھے تو اپنی ہی زندگی کا
نہیں ہے مجھ کو زمانے بھر سے کوئی بھی حاجت مری غزالہ