تمہاری قربت میں بیتا وقفہ

Kainaat (b. 1992)

تمہاری قربت میں بیتا وقفہ

خمار بن کر مرے تنفس میں بے تحاشہ مہک رہا ہے

تمہاری سادہ دلی نے دل کی تمام دنیا پہ حشر برپا کیا ہوا ہے

کسی بھی جانب نظر اٹھاؤں

تمہاری گہری چمکتی آنکھوں کا عکس

میری اداس آنکھوں میں کوندتا ہے

یہ عکس سچ بھی ہے خواب بھی ہے

یہ عکس مثل سراب بھی ہے

میں اس تماشے سے تنگ آکر جو اپنی پلکوں پہ ہاتھ رکھ لوں تو دیکھتی ہوں

کہ لمس اب تک تمہارے ہاتھوں کا میرے ہاتھوں کی انگلیوں سے گتھا ہوا ہے

یہ لمس آتش ہے آب بھی ہے

یہ لمس مثل عذاب بھی ہے

مجھے خبر ہے کہ میری وحشت حق اور باطل کی عین سرحد پہ آ رکی ہے

مری محبت کے پاک دامن پہ داغ لگنے میں بس ایک نقطے کی ہی کمی ہے

اور ایسی نازک گھڑی میں جب کہ گھڑی کی سانسیں بھی

اپنا رستا بھٹک رہی ہیں مجھے پتہ ہے

کہ میں جو بھٹکی رہ وفا سے

تو پھر جہاں میں سوا فریبوں کے کیا بچے گا

کہاں بچے گی کوئی صداقت

کوئی بھروسہ کہاں بچے گا

سو چاہتی ہوں

یہ سارا وقفہ جو مجھ کو خوابوں سا لگ رہا ہے وہ خواب ہی ہو

یہ سارا وقفہ کہ جس پہ سچ کا وہم ہے مجھ کو سراب ہی ہو