میں نہ کہتا تھا مرے یار بدل جاتا ہے
Aadil Rahi (b. 1993)میں نہ کہتا تھا مرے یار بدل جاتا ہے
وقت کتنا بھی ہو دشوار بدل جاتا ہے
میں نے بس دل کی سنی ورنہ ترے بارے میں
لوگ کہتے تھے خبردار بدل جاتا ہے
حاکم وقت یوں مغرور نہ بن ہوش میں آ
پیر آتا ہے تو اتوار بدل جاتا ہے
تجھ پہ کیسے ہو یقیں مجھ کو کہ اب تو یکسر
اپنا کہتا تو ہے ہر بار بدل جاتا ہے
یہ نزاکت یہ دکھاوا یہ تکبر اچھا
یعنی دولت سے بھی معیار بدل جاتا ہے
دیکھنے والو حقارت سے نہ دیکھو مجھ کو
بھوک سے جسم کا آکار بدل جاتا ہے
کیا بتاؤں کہ محبت کے سفر میں راہیؔ
غم تو رہ جاتا ہے غم خوار بدل جاتا ہے