تو نے ہی ہر قدم پہ دیا حوصلہ مجھے

Aadil Rahi (b. 1993)

تو نے ہی ہر قدم پہ دیا حوصلہ مجھے

یا رب نہیں ہے تیرے سوا آسرا مجھے

اک بار اس نے کہہ تو دیا دل ربا مجھے

تکتا رہا میں آئنے کو آئنہ مجھے

جن کے لئے سند تھی مری بات کل تلک

دینے لگے ہیں آج وہی مشورہ مجھے

کالج میں اس لیے بھی تو جاتا رہا کہ وہ

اے کاش اک نظر ہی سہی دیکھتا مجھے

ناراض اپنے آپ سے ہوں مان یا نہ مان

تجھ سے شکایتیں ہیں نہ کوئی گلہ مجھے

ہر آن ہر خوشی ہے ملی اس کے باوجود

کیوں لگ رہی ہے زندگی میری سزا مجھے

حافظ مرا خدا ہے سو کہنا فضول ہے

اپنے سوا کسی کا نہیں آسرا مجھے

اس عین شین قاف میں اک پل سکوں نہیں

دیتا ہے جیسے راہیؔ کوئی بد دعا مجھے