Poetry
Poet
Meter
- تمہارے بعد یہ غم بھی اٹھانا پڑتا ہےخوشی ملے نہ ملے مسکرانا پڑتا ہےAadil Rahi (b. 1993)
- تمہارے غم کی اداسی قلیل کرتے ہوئےمیں جی رہا ہوں محبت طویل کرتے ہوئےAadil Rahi (b. 1993)
- عمر بھر ان سے تعلق نہیں ٹوٹا کرتاایسے کچھ لوگ ہیں جو دل میں اتر جاتے ہیںAadil Rahi (b. 1993)
- اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہےیعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہےعالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیںہم ایسے لوگوں کی کشتی کا ناخدا بھی نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھیاس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیںگماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گالٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پرQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- اس کے ٹھہراؤ سے تھم جاتی ہے سب موج حیاتیعنی دریا میں نہیں سانس میں گہرائی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- انا نے دونوں کے بیچ نفرت کی ایک دیوار کھینچ دی ہےادھر سے آنے کا مسئلہ ہے ادھر سے جانے کا مسئلہ ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- بہت غرور تھا سورج کو اپنی شدت پرسو ایک پل ہی سہی بادلوں سے ہار گیاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- سرد راتوں کا تقاضہ تھا بدن جل جاےپھر وہ اک آگ جو سینہ سے لگائی میں نےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- شدت غم سے کوئی غم بھی نہیں ہو پایاجانے والے ترا ماتم بھی نہیں ہو پایاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- میں رو پڑوں گا بہت بھینچ کے گلے نہ لگامیں پہلے جیسا نہیں ہوں کسی کا دکھ ہے مجھےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- ہم وہ ناداں تھے جو شہروں کو سکوں جانتے تھےتم نہیں آئے ادھر تم نے سمجھ داری کیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یوں رات گئے کس کو صدا دیتے ہیں اکثروہ کون ہمارا تھا جو واپس نہیں آیہQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستمزمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میراQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- اس کی رحمت کر رہی ہے اس کے روزے کا طوافیہ جو بچہ کر رہا ہے سوکھے ٹکڑے کا طوافTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- تلخ لہجہ جس کی فطرت ہے اسی ناری کا بوجھمیں اٹھائے پھر رہا ہوں زیست بیچاری کا بوجھTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- جو اندھیری چھت پہ خیال ہیں انہیں روشنی میں اتار لےیہ جو حسن ہے تری سوچ میں اسے شاعری میں اتار لےTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- جھوٹ کی پوشاک پر پیوند کاری کب تلکہم سے آخر یہ بتاؤ ہوشیاری کب تلکTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- قافیہ پر قافیہ حضرت رقم کرتے گئےاور غزل کے ہاتھ پیروں کو قلم کرتے گئےTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- کسی کاغذ کے سینے پر یہ جذبہ درج کر دینامرے بھائی کے حق میں میرا حصہ درج کر دیناTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- میں نے رشتوں سے نہ بڑھ کر کبھی پیسہ سمجھاتو نے پیسوں سے نہ بڑھ کر کبھی رشتہ سمجھاTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- ہمارے شہر میں گھر اس لیے سنسان رہتے ہیںکہ گھر گھر خوف سے سہمے ہوئے انسان رہتے ہیںTahir Saood Kiratpuri (b. 1993)
- بدلتے پل میں ہم محرم نہیں ہیںتیرے جیسے تو کم سے کم نہیں ہیںGayatri Mehta (b. 1993)
- تو نے کوشش تو کی زمانہ پرلو بجھی ہی نہیں بجھانے پرGayatri Mehta (b. 1993)
- تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیںآپ نے ہی دیر سے جانا ہمیںGayatri Mehta (b. 1993)
- جسم سے ہو کے پار آئے ہمروح بستر پہ ہار آئے ہمGayatri Mehta (b. 1993)
- جو کچھ مجھ سے کمایا جا رہا ہےمحض گھر کا کرایہ جا رہا ہےGayatri Mehta (b. 1993)
- فقط اس بات پہ دل رو گیا ہےجو میرا تھا نہیں وہ کھو گیا ہےGayatri Mehta (b. 1993)
- جب کبھی درد کا بازار دکھائی دے دےدفعتاً مجھ کو وہ کردار دکھائی دے دےUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- چشم نم خم ہے یار مت پوچھوزندگی غم ہے یار مت پوچھوUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- حسن و وفا کے ذکر میں سرکار آپ ہیںسب کچھ ملا مجھے ولے درکار آپ ہیںUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- دل مضطر کی آشنائی سےغم لگے اب ہیں پارسائی سےUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- لوگ جب جب تری آنکھوں میں خدا دیکھتے ہیںہم در مکر سبھی خلق پہ وا دیکھتے ہیںUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- ہم سفر ہو کے بھی اک گام نہیں چل سکتےہم ترے ساتھ سر عام نہیں چل سکتےUmar Khaleeq Azmi (b. 1993)
- اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتےاس کا نمبر ہے مگر کال نہیں کر سکتےNadir Areez (b. 1993)
- کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گیوہ پہلی کوشش پہ دل کشادہ کہاں کرے گیNadir Areez (b. 1993)
- مری جاں پر یہ پتھر اس لیے بھاری زیادہ ہےمحبت کم ترے لہجے میں غم خواری زیادہ ہےNadir Areez (b. 1993)
- نئے مجرم ہیں پرانوں کی طرف دیکھتے ہیںمقتدی اپنے اماموں کی طرف دیکھتے ہیںNadir Areez (b. 1993)
- جس کی آواز کانوں میں صبح صبح چڑیوں کی طرح چہکتی تھیجس کی موجودگی سے فضاؤں میں خوشبو سی مہکتی تھیAamir Riaz (b. 1993)
- تمام آنسو اگر شبدوں میں ڈھل جاتے تو اچھا تھاتری یادوں سے ہم باہر نکل جاتے تو اچھا تھاUpdesh Vidyarthi (b. 1993)
- آنکھوں میں وہ آئیں تو ہنساتے ہیں مجھے خوابہر روز نئے باغ دکھاتے ہیں مجھے خوابSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کادل کے ورق پہ عکس ہے اس کے جمال کاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- اسے بیتاب ہو کر سوچتی ہوںمیں اک گلفام اکثر سوچتی ہوںSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- اگر الفاظ سے غم کا ازالہ ہو گیا ہوتاحقیقت تو نہ ہوتی بس دکھاوا ہو گیا ہوتاSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)
- باد صرصر بھی قربت کی چلتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہےزلف ہاتھوں سے تیرے سنورتی رہے دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہےSabeela Inam Siddiqui (b. 1994)