مستی بھری وہ شام سہانی اٹھا کے لا
Kaleem Jazil (b. 1992)مستی بھری وہ شام سہانی اٹھا کے لا
جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
دل کی امنگ وصل کی خوشبو کے واسطے
باغ وفا سے رات کی رانی اٹھا کے لا
باطل سے تجھ کو معرکہ کرنا ہے گر یہاں
چھوڑی ہوئی سلف کی نشانی اٹھا کے لا
اے بلبل چمن تجھے شہرت جو چاہیے
جا اس کے لب کی شوخ بیانی اٹھا کے لا
دیوار دل کی شان بڑھانے کے واسطے
تصویر اس کی کوئی پرانی اٹھا کے لا
محفل میں ہوں گی تیری پذیرائیاں بہت
جاذلؔ تو اپنی گزری کہانی اٹھا کے لا