آنکھوں میں انتظار کی گھڑیاں لیے ہوئے

Kaleem Jazil (b. 1992)

آنکھوں میں انتظار کی گھڑیاں لیے ہوئے

بیٹھا ہوں دل میں کتنے ہی ارماں لئے ہوئے

پل بھر میں پھوٹ سکتا ہے جذبوں کا اک ہجوم

آغوش میں حباب ہے طوفاں لئے ہوئے

حسرت بھری نگاہ سے بس دیکھتا رہا

نکلیں جب اس کو ساتھ میں سکھیاں لئے ہوئے

مانا کہ میری زندگی مشکل میں ہے مگر

چلتا ہوں پھر بھی خوشیوں کا ساماں لئے ہوئے

جاذلؔ بہت ہی ناز تھا جب عشق پر تجھے

کیوں پھر رہا ہے چاک گریباں لئے ہوئے