نہ یہ بدلا نہ وہ بدلا نہ یہ دل کا جہاں بدلا
Kaleem Jazil (b. 1992)نہ یہ بدلا نہ وہ بدلا نہ یہ دل کا جہاں بدلا
اگر بدلا یہاں کچھ تو فقط وہ مہرباں بدلا
تمہیں بھی چین کی نیندیں یہاں سونے نہیں دیں گی
اگر اجداد کا تم نے ذرا سا بھی نشاں بدلا
زمانے میں بہت آیا تغیر دوستو لیکن
زمیں جیسی کی تیسی ہے نہ رنگ آسماں بدلا
ابھی تک لوگ قائم ہیں انہیں جھوٹی روایت پر
تمہاری حق بیانی سے کوئی آخر کہاں بدلا
ہمیشہ جس کے ہونٹوں پر محبت کی رہیں باتیں
خدا جانے کہ کیوں اس کا ہے انداز بیاں بدلا
قدم آگے بڑھاتا ہی رہا میں سخت راہوں پر
نہ ہمت ہی مری ٹوٹی نہ یہ عزم جواں بدلا
ہے ان کو آج بھی جاذلؔ وفاداری پہ شک لیکن
نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے آشیاں بدلا