Poetry
Poet
Meter
- چاہے جینا بھاری ہےمرنا اک غداری ہےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- دل میں کچھ کچھ تھکان ہے پیارےپھر بھی محفل جوان ہے پیارےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- سب کو خود سے بچا رہا ہوں میںاپنا نقشہ مٹا رہا ہوں میںOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- شام کا انتظار کرتا ہوںمیں اندھیرے سے پیار کرتا ہوںOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- گر مجھے سادہ دل بنایا تھاتو بھلا کیوں جہاں میں لایا تھاOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- مجھ کو اس رستے پر چلنا ہوتا ہےجس پہ اندھیرا خوب اندھیرا ہوتا ہےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- نیند کو نیند آئے جاتی ہےرات مجھ کو جگائے جاتی ہےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- اے ناظر بے خبراب تم نا ہی آؤ تو اچھا ہےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- جھیل کنارے رہنے والیموتی جیسے چہرے والیOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- ہو تصور عشق کا اور ہو سیاہی رات کیعمر نازک موم سی ہو یاد ہو اس بات کیOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہےجوانی ہے جوانی میںOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- اشکوں کو اپنی آنکھ میں پیہم لیے ہوئےہم چل رہے ہیں جیسے شرابی پیے ہوئےDanish Asari (b. 1991)
- ترا نشانہ ہوں میں تیر بن کے مجھ میں آمیں اک فریم ہوں تصویر بن کے مجھ میں آDanish Asari (b. 1991)
- تھوڑی حیران تھی گھبرائی تھی شرمائی بہتحسرت دید بجھی بجھ کے بھی تڑپائی بہتDanish Asari (b. 1991)
- حجازی لے گئی ہم نے بھلائے طور ترکانیبچی لے دے کے ہم میں اب فقط اپنوں کی من مانیDanish Asari (b. 1991)
- دل نے کہا تھا کافی پہلے عشق کا اک افسانہ لکھبیگانوں کو اپنا لکھ دے اپنوں کو بیگانہ لکھDanish Asari (b. 1991)
- سنو کہ عشق و محبت کا تاجدار ہوں میںمحبتوں کے سفینے پہ اب سوار ہوں میںDanish Asari (b. 1991)
- مجھ پہ الزام لگاتے ہو لگائے جاؤخون دل اپنا جلاتے ہو جلائے جاؤDanish Asari (b. 1991)
- وہ شخص آج مجھ کو ایک آئنہ دکھا گیاطلب کے بھی اصول ہیں یہی مجھے بتا گیاDanish Asari (b. 1991)
- ہم وہ مجبور کہ ہجرت بھی نہیں کر سکتےیعنی آزادی کی چاہت بھی نہیں کر سکتےDanish Asari (b. 1991)
- یہ الگ بات کہ پیشانی پہ بل آئے گاغور کرتے رہو کچھ حل بھی نکل آئے گاDanish Asari (b. 1991)
- اس دشت کا جو رابطہ ہے تشنگی کے ساتھتو خوش رہے دعا ہے مگر اک کمی کے ساتھM.S Mahawar (b. 1991)
- اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیںکیا پیالے میں ہی شراب نہیںM.S Mahawar (b. 1991)
- اک نظر آر پار کر دیکھیںروح کو جسم اتار کر دیکھیںM.S Mahawar (b. 1991)
- بس ایک آخری رستے میں ہم کھڑی دیکھیںترا یہ چہرہ حسیں دیکھیں یا گھڑی دیکھیںM.S Mahawar (b. 1991)
- جس کی چاہت میں گمشدہ ہوں میںوہ سمجھتی ہے بے وفا ہوں میںM.S Mahawar (b. 1991)
- تجھے اتنا تو دیکھا بھی نہیں ہےتجھے ہم یاد جتنا کر رہے ہیںM.S Mahawar (b. 1991)
- چن لیا ہے تمہیں مرا محبوبدوسرا کوئی انتخاب نہیںM.S Mahawar (b. 1991)
- کیا کریں بولتی ان آنکھوں کاحال دل کا چھپا نہیں سکتےM.S Mahawar (b. 1991)
- مر گئی بند لفافے میں محبت میریصرف اسی نے نہ پڑھے جس کو پڑھانے تھے خطM.S Mahawar (b. 1991)
- ہجر کا دکھ نہیں رہا ہمیں ابہے یہ دکھ اب کوئی عذاب نہیںM.S Mahawar (b. 1991)
- ایک نام ہی کے باعث ادب ہے کمال ہےدکھتا نہیں ہے پھر بھی وہ رب ہے کمال ہےOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
- گھر ہے پتھر کا خدا خیر کرےاب مرے سر کا خدا خیر کرےOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
- مردوں کی زندگی کے لیے کیا دعا کریںاس پست آگہی کے لیے کیا دعا کریںOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
- یہ زمیں آسمان رہنے دےکوئی تو سائبان رہنے دےOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
- اپنوں کے ساتھ جب کوئی ہوتا ہے حادثہسینے میں نوک تیر چبھوتا ہے حادثہQamar Malal (b. 1992)
- پہنچا اسی بہانے مرا فن کمال کواردو سکھا رہا تھا میں اک خوش جمال کوQamar Malal (b. 1992)
- حصار نکہت گل میں سر بہار تھا میںوہ دن بھی کیا تھے کہ اک اپسرا کا یار تھا میںQamar Malal (b. 1992)
- درد ہے رنج ہے کلفت ہے الم ہے غم ہےنہ خدا ساتھ نہ ہم راہ صنم ہے غم ہےQamar Malal (b. 1992)
- قمرؔ ہاں میں بدلی نہیں رفتہ رفتہکہ ہم سے کھلا وہ حسیں رفتہ رفتہQamar Malal (b. 1992)
- کرتا ہوں بن ترے یوںہی اکثر گزر بسرجیسے کسی غریب کی بے زر گزر بسرQamar Malal (b. 1992)
- نہ کسی حرص نہ ہوس کے لیےہم یہاں آئے اہل لس کے لیےQamar Malal (b. 1992)
- نہیں ہے یوں کہ فقط رات ہی نہیں کٹنیترے بغیر تو یہ زندگی نہیں کٹنیQamar Malal (b. 1992)
- وہ حسیں گھڑی وہ سنہرا پل نہیں بھولتاجو بتایا تھا ترے ساتھ کل نہیں بھولتاQamar Malal (b. 1992)
- ہمت کر کے پار اترنا دل چھوٹا مت کرنادریا کا ہے کام بپھرنا دل چھوٹا مت کرناQamar Malal (b. 1992)
- یارب مرے ماضی کا خسارہ مجھے مل جائےکھوئی تھی محبت جو دوبارہ مجھے مل جائےQamar Malal (b. 1992)
- اشکوں سے اپنی آنکھیں بھگوتا رہا غزالبیٹھا ندی کے تیر پہ روتا رہا غزالA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- حسن در حسن پھر آزمانے کے بعدخون رونا پڑا دل لگانے کے بعدA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- ڈھلی جو رات بہت دیر مسکرائی صبافضا کو دے کے گئی آج پھر بدھائی صباA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)
- سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تکبھگو کر شاہ رکھے گا لہو میں آستیں کب تکA.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)