التمش میر مجھ کو قتل کرو
Kainaat (b. 1992)التمش میر مجھ کو قتل کرو
اپنی قربت کے شیریں خنجر سے
یا کہ اک لمحے کو بھی ٹھہرے بن
جلد پہ نقش ہوتے نشتر سے
بوسے بوسے کو کانچ کانچ کرو
نرمیٔ لب کو آنچ آنچ کرو
کانچ کے آر پار سانسوں کی
گنگنی گیلی دھوپ آنے دو
ریزہ کر دو قبا کی زنجیریں
بھول جاؤ حیا کی تدبیریں
اپنی بیتابیوں کے دریا میں
کھینچ لو مجھ کو ڈوب جانے دو
مجھ میں اترو خمار شب ہو کر
مجھ پہ بکھرو نہ تم طرب ہو کر
مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دو
مجھ پہ دنیا کو بے اثر کر دو
جسم شعلہ بنے سو بن جائے
داغ دل پہ لگے سو لگ جائے
مجھ کو کیونکر گریز ہونا ہے
ایسے آزار جان پرور سے
تم رہو جان میری پاس مرے
وہ یہ ساری نوازشیں مجھ پر
آنے والی سحر سے قبل کرو
التمش میر مجھ کو قتل کرو