شام کے تن پر سجی جو سرمئی پوشاک ہے
A.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)شام کے تن پر سجی جو سرمئی پوشاک ہے
ہم چراغوں کی فقط یہ روشنی پوشاک ہے
چاند پیشانی کا ٹیکا چاندنی پوشاک ہے
رات نے پہنی ہے جو وہ ساحری پوشاک ہے
خاک کا یہ جسم ہے اور خاک ہی پوشاک ہے
زندگی کی یہ نہیں یہ روح کی پوشاک ہے
اس کو جنت میں قدم رکھنے پے ہے پابندیاں
جس کسی بد ذہن کی بھی کافری پوشاک ہے
ہر گلی نکڑ نگر اب بن چکا مقتل یہاں
بے گناہوں کی لہو تر چیختی پوشاک ہے
سب کی تقریروں میں ویسے ہے خدا سب کا ہی اک
ہاں مگر ہر دل کی اپنی مذہبی پوشاک ہے
اس غزل کے حرف ساحلؔ مسکرائے کس قدر
مدتوں سے جس نے پہنی ماتمی پوشاک ہے