اپنی آنکھوں سے تباہی یہ نظارہ دیکھوں

Aadil Rahi (b. 1993)

اپنی آنکھوں سے تباہی یہ نظارہ دیکھوں

یعنی تجھ کو میں کسی اور کا ہوتا دیکھوں

میری دیوانگی اس موڑ پہ لے آئی ہے

ہر کسی چہرے میں بس ایک ہی چہرہ دیکھوں

یہ جو تصویر مصور نے بنائی ورنہ

چاند کو ٹھہرے ہوئے پانی میں چلتا دیکھوں

تشنگی لاکھ سہی پر یہ نہیں ہو سکتا

خود کو لاچار بناؤں سوئے دریا دیکھوں

یہ تری ضد کہ تڑپتا ہوا دیکھے مجھ کو

میری خواہش کہ ہمیشہ تجھے ہنستا دیکھوں

سامنے تجھ کو بٹھاؤں ترا ماتھا چوموں

تیری آنکھیں تری زلفیں ترا چہرہ دیکھوں

دو قدم چل کے یہ دل نے کہا عادل راہیؔ

آخری بار پلٹ کر اسے جاتا دیکھوں