روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے

Iftikhar Falak Kazmi (b. 1992)

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے

چور عہد سامری کے جل پری تک آ گئے

واعظان خوش ہوس کی جھڑکیاں سنتے ہوئے

لا شعوری طور پر ہم سر خوشی تک آ گئے

ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم

ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے

واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر

کچھ پرندے ہاتھ باندھے سبزگی تک آ گئے

بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے

بے تکلف ہو گئے تو گدگدی تک آ گئے

چاک تہمت پر گھمایا جا رہا تھا عشق کو

جب ہمارے اشک خواب خودکشی تک آ گئے

گالیاں بکنے لگے غصے ہوئے لڑنے لگے

رقص کرتے کرتے ہم بھی خود سری تک آ گئے

اے حسیں لڑکی تمہارے حسن کے لذت پرست

کافری سے سر بچا کر شاعری تک آ گئے