تیری ہر بات پہ تنقید نہیں کر سکتا
Aadil Rahi (b. 1993)تیری ہر بات پہ تنقید نہیں کر سکتا
ہاں مگر جھوٹ کی تائید نہیں کر سکتا
تو اگر جان بھی مانگے تو خوشی سے دے دوں
میں ترے حکم کی تردید نہیں کر سکتا
آخری عشق کیا میں نے مگر پہلی بار
دوسری بار یہ تفرید نہیں کر سکتا
میں نے دیکھا ہے بدلتا ہوا لہجہ تیرا
اس لیے تجھ سے تو امید نہیں کر سکتا
تو نے اس حال میں چھوڑا ہے کہ اللہ اللہ
عید کا دن ہے مگر عید نہیں کر سکتا
یہ الگ بات سخنور ہوں میں عادل راہیؔ
درد اتنے ہیں کہ تصویر نہیں کر سکتا