چمن کی تازگی پھولوں کی دلکشی لے کر

Kaleem Jazil (b. 1992)

چمن کی تازگی پھولوں کی دلکشی لے کر

ترے دیار میں آیا ہوں زندگی لے کر

جو کر رہا ہے اکٹھا متاع ہستی تو

وہاں نہ جائے گا سن لے تو ایک بھی لے کر

رگوں میں دوڑ رہی ہے سیاہی نفرت کی

چلے بھی آؤ محبت کی روشنی لے کر

نواز دیں گے تو احسان آپ کا ہوگا

میں ٹوٹی پھوٹی یہاں آیا شاعری لے کر

زمانہ دیکھنے لگتا ہے شک کی نظروں سے

کوئی نکلتا نہیں لب پہ اب ہنسی لے کر

کسی سے کچھ نہیں کہتا ہے اپنے دل کی بات

بھٹک رہا ہے وہ ہونٹوں پہ خامشی لے کر

اندھیرے پاؤں پساریں گے کس طرح جاذلؔ

محبتوں کی میں نکلا ہوں چاندنی لے کر