یہ صحرائے محبت ہے یہاں سایہ نہیں کوئی

Kaleem Jazil (b. 1992)

یہ صحرائے محبت ہے یہاں سایہ نہیں کوئی

گزرتے جا رہے ہیں سب مگر رکتا نہیں کوئی

تمہیں سے میری وابستہ بہار زندگانی تھی

تمہارے بعد ان آنکھوں میں اب جچتا نہیں کوئی

چلو چل کر نئی دنیا کوئی آباد کرتے ہیں

کہ مظلوموں کی فریادیں یہاں سنتا نہیں کوئی

محبت کب کسی کو اس جہاں میں راس آئی ہے

تمہاری بے وفائی کا مجھے شکوہ نہیں کوئی

بیاباں کی طرح لگتی ہیں جب خاموش رہتی ہیں

چھلک جائے تو ان آنکھوں سا پھر دریا نہیں کوئی

وطن پہ جاں نثاری کا تو دعویٰ لوگ کرتے ہیں

کسی میں جاں لٹانے کا مگر جذبہ نہیں کوئی

سبھی آسودہ رہتے ہیں سکوں کی نیند سوتے ہیں

ہمارے شہر میں جاذلؔ ابھی بھوکا نہیں کوئی