مجھے مت کہو پھول باغ ارم کا

Kainaat (b. 1992)

مجھے مت کہو پھول باغ ارم کا

کہ پھولوں کے حصہ اذیت بہت ہے

شمع بھی نہ کہنا

کہ جلنا بھلے ہی خوشی کا سبب ہو

کسی کو جلانے میں تہمت بہت ہے

مجھے رنگ و نکہت سے یکسانیت کی بھی چاہت نہیں ہے

نزاکت کا پیکر کہے جانے کی بھی مرے قلب ویراں کو حاجت نہیں ہے

نہ ہے مجھ کو ارماں کہ میری ستائش میں دنیا کے سب استعاروں کو ہارو

حوالے سے میرے

لبوں پر تمہارے

لقب اور کوئی بھی جنچتا نہیں ہے

سو گر ہو سکے تو مرے غم شناسا

مجھے تم مرے نام سے ہی پکارو