تھوڑی حیران تھی گھبرائی تھی شرمائی بہت
Danish Asari (b. 1991)تھوڑی حیران تھی گھبرائی تھی شرمائی بہت
حسرت دید بجھی بجھ کے بھی تڑپائی بہت
تم سے آباد یہ آنگن تھا مرے پرکھوں کا
سونی سونی مجھے لگتی ہے اب انگنائی بہت
پیڑ جتنے تھے سبھی کاٹ دئے تھے ہم نے
بارشیں رکتے ہی ان پیڑوں کی یاد آئی بہت
کل افق پر نہ ستارے تھے نہ مہتاب نہ رنگ
تھی تخیل کے بھی بازار میں مہنگائی بہت
اک صنوبر تھا وہاں نیم وہاں سرو وہاں
میری مٹی میں ذرا پہلے تھی یکجائی بہت
تو اگر مجھ سے خفا ہو کے گیا تو کیا غم
تجھ سے پہلے بھی نظر آئے ہیں ہرجائی بہت
قیس مشہور ہوا عشق میں وحدت رکھ کر
ورنہ تھے حسن کے اس دنیا میں سودائی بہت