یہ الگ بات کہ پیشانی پہ بل آئے گا

Danish Asari (b. 1991)

یہ الگ بات کہ پیشانی پہ بل آئے گا

غور کرتے رہو کچھ حل بھی نکل آئے گا

بیج بھی ڈال دے امید ثمر بھی تج دے

جب تری نسل جواں ہوگی تو پھل آئے گا

مصلحت اوڑھ کے چپ چاپ تماشا بن جا

جو بھی آئے گا مخالف ترے حل آئے گا

ایک قانون مکافات عمل ہے ظالم

آج جو کرتا ہے تو سامنے کل آئے گا

عمر گزری ہے کبھی دید کی لذت مل جائے

جانے کب میری نگاہوں میں وہ پل آئے گا

دانشاؔ بزم میں ان کی تو غزل جھوم کے پڑھ

ان کی جانب سے بھی کچھ رد عمل آئے گا