دل نے کہا تھا کافی پہلے عشق کا اک افسانہ لکھ
Danish Asari (b. 1991)دل نے کہا تھا کافی پہلے عشق کا اک افسانہ لکھ
بیگانوں کو اپنا لکھ دے اپنوں کو بیگانہ لکھ
پچھلی رتوں میں خون کی بارش آنکھوں سے جب برسی تھی
اس منظر کا عکس بنا اس عکس پہ تو دیوانہ لکھ
جلتی بجھتی شمع سحر تک جیسے تیسے چلتی ہے
جو لمحوں میں خاک ہوا ہے لکھ اس کو پروانہ لکھ
بیچ میں جس نے نفرت بوئی تو اس کو فرزانہ لکھ
شعر میں اکثر باتیں ستر ستر معنی رکھتی ہیں
پردوں کا یہ جھنجھٹ چھوڑ دے جرأت کر رندانہ لکھ
ان آنکھوں نے کیسے کیسے منظر دیکھے دنیا میں
دنیا داری کرنی ہے تو آنکھوں کو تہہ خانہ لکھ
دانشؔ تو نے خوب لکھا ہے لفظوں سے بھی کھیلا ہے
لیکن جو بیدار ہوئے ان زخموں کا جرمانہ لکھ