کرتا ہوں بن ترے یوںہی اکثر گزر بسر

Qamar Malal (b. 1992)

کرتا ہوں بن ترے یوںہی اکثر گزر بسر

جیسے کسی غریب کی بے زر گزر بسر

دنیا کا ہر طعام میسر ہے چند کو

اور بعض کی ہے نان جویں پر گزر بسر

پہلے جو قیس کے لیے اٹھتے تھے آج کل

ان پتھروں کی ہے مرے سر پر گزر بسر

لگتا ہے پھر قریب ہیں فاقوں کے روز و شب

ہوتی ہے چند روز سے بہتر گزر بسر

اک شخص ایسا چاہیے مجھ کو بھی ان دنوں

جس کے بنا نہ ہو سکے پل بھر گزر بسر

ہر دل صنم کدہ ہے یہاں پر قمر ملالؔ

کرتے ہو تم ہی ایک خدا پر گزر بسر