نہ کسی حرص نہ ہوس کے لیے

Qamar Malal (b. 1992)

نہ کسی حرص نہ ہوس کے لیے

ہم یہاں آئے اہل لس کے لیے

مجھ پہ بس اک نگہ کہ کافی ہے

ایک چنگاری خار و خس کے لیے

زندگانی کے خستہ اڈے پر

ہم کھڑے ہیں اجل کی بس کے لیے

رزم بزم سخن کو سمجھو تو

تنہا کافی ہوں آٹھ دس کے لیے

دوستوں نے ترے بچھڑنے پر

مری بربادیوں کے چسکے لیے

پھر بہاروں نے راستہ روکا

گھر سے نکلے تھے ہم قفس کے لیے

عشق کا کھیل کھیلتے ہیں لوگ

نرم جسموں پہ دسترس کے لیے

ناز کیا اے قمرؔ جوانی پر

یہ تو ہوتی ہے کچھ برس کے لیے