ہم وہ مجبور کہ ہجرت بھی نہیں کر سکتے

Danish Asari (b. 1991)

ہم وہ مجبور کہ ہجرت بھی نہیں کر سکتے

یعنی آزادی کی چاہت بھی نہیں کر سکتے

اپنے کعبہ پہ تو قبضہ ہے عزازیلوں کا

ہم تو اب کھل کے عبادت بھی نہیں کر سکتے

ترکیا مست مئے ناب عرب مست معاش

اب تو وہ میری حمایت بھی نہیں کر سکتے

قاتلو ٹھہرو ذرا ایک تو سجدہ کر لوں

کیا ذرا سی یہ رعایت بھی نہیں کر سکتے

جو بھی تھا سب تو لٹا ڈالا ہے حضرت اب کیا

آپ اب اور سخاوت بھی نہیں کر سکتے

نام رکھا ہے مسلمانوں سا مر جاؤ کہ تم

قوم مسلم سے برأت بھی نہیں کر سکتے

دانش اثریؔ نے بتائی تھی تمہیں کل کی خبر

تم تو اب اس سے شکایت بھی نہیں کر سکتے