سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک
A.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک
بھگو کر شاہ رکھے گا لہو میں آستیں کب تک
کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں
ابھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک
بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا
کسی کے جھوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک
رکھے گا وقت ان کے روبرو بھی آئنہ اک دن
جہاں کے عیب ہی دیکھا کریں گے نکتہ چیں کب تک
نگاہوں سے ہی وہ ہر شخص کو کافر بنا دے گا
بچے گی یہ ہوس کے سائے سے روئے زمیں کب تک
نہ جانے کب رہا اس قید سے ہم ہوں گے اے ساحلؔ
ستائیں گے ہماری زیست کو یہ کفر و دیں کب تک