جس کی چاہت میں گمشدہ ہوں میں

M.S Mahawar (b. 1991)

جس کی چاہت میں گمشدہ ہوں میں

وہ سمجھتی ہے بے وفا ہوں میں

دیکھ کر کے پلٹ گیا تو مجھے

تیرے دل کا ہی راستا ہوں میں

بیٹھتے ہیں رقیب میرے پاس

ہجر کی کارگر دوا ہوں میں

آئنے میں نہیں ملے گا تو

ڈھونڈھ مجھ کو ترا پتہ ہوں میں

گر محبت گناہ ہے تو پھر

ٹھیک کہتے ہیں سب برا ہوں میں

تو نے اک چیخ ہی سنی ہے بس

سن خموشی بھی ان سنا ہوں میں

تو مجھے سوچتا نہیں ہوگا

سوچ کر کے یہ مر گیا ہوں میں