حجازی لے گئی ہم نے بھلائے طور ترکانی

Danish Asari (b. 1991)

حجازی لے گئی ہم نے بھلائے طور ترکانی

بچی لے دے کے ہم میں اب فقط اپنوں کی من مانی

جمال صبح پیدا کر کہ ناظر خود بخود آئیں

اڑا لہجے سے وہ خوشبو لگے جو بوئے بستانی

حکومت کا تماشہ ہے امارت کا تکبر ہے

جو کل آزاد تھے وہ آج بن بیٹھے ہیں زندانی

سنبھل اے نوجوان اب وقت بھی نزدیک آتا ہے

مجھے تو خوں رلاتی ہے لہو کی تیرے ارزانی

تعیش میں گنوا بیٹھے گا میراث سلف سن لے

جفا کش بن تو پھر تیرا ہے یہ تخت سلیمانی

کہاں تیری حمیت اور غیرت ہے وہی جس سے

ڈرے تھے قیصر و کسریٰ گرا تھا تاج خاقانی

ہلاکت خیز دلدل میں اتارا کس نے امت کو

بتا دانشؔ وہ جرأت تھی کہ تھا انداز رہبانی