اپنوں کے ساتھ جب کوئی ہوتا ہے حادثہ

Qamar Malal (b. 1992)

اپنوں کے ساتھ جب کوئی ہوتا ہے حادثہ

سینے میں نوک تیر چبھوتا ہے حادثہ

تازہ لہو سے کرتا ہے پوشاک پہلے تر

آنچل پھر آنسوؤں سے بھگوتا ہے حادثہ

اس کی بس اک ہنر میں مہارت ہے بے مثال

دکھ کی لڑی میں اشک پروتا ہے حادثہ

بے احتیاطی کرتی ہے خوب اس کی پرورش

غفلت کی نرم گود میں سوتا ہے حادثہ

بار غم اجل سے ہوں جب لوگ ناتواں

لاشوں کا بوجھ آپ ہی ڈھوتا ہے حادثہ

کوئی قمر ملالؔ نئی بات تو نہیں

خونی سڑک پہ روز ہی ہوتا ہے حادثہ