دل میں کچھ کچھ تھکان ہے پیارے
Om Bhutkar Maghloob (b. 1991)دل میں کچھ کچھ تھکان ہے پیارے
پھر بھی محفل جوان ہے پیارے
تو نے پی تو شراب خود بولی
کتنی میٹھی زبان ہے پیارے
میں ترے دل میں رہنے آؤں کیا
میرا چھوٹا مکان ہے پیارے
چھیڑ دی داستان دل میری
اب ترا امتحان ہے پیارے