اک نظر آر پار کر دیکھیں
M.S Mahawar (b. 1991)اک نظر آر پار کر دیکھیں
روح کو جسم اتار کر دیکھیں
کون سنتا ہے خامشی کی صدا
آنکھوں سے بھی پکار کر دیکھیں
کھیل یہ سیدھی نظروں کا نہیں دوست
کیوں نہ آنکھ ایک مار کر دیکھیں
پیار اگر دے مزہ اداسی کا
کیوں نہ ہم دل یہ ہار کر دیکھیں
ہجر کے بعد ایک اور یہ ہجر
دشت میں پیاس مار کر دیکھیں
آنسوؤں میں چھپا ہو راز کوئی
کیوں نہ وہ دریا پار کر دیکھیں
ہے کوئی اور عکس آئنہ میں
دھول تھوڑی اتار کر دیکھیں
ہو اکیلا اداس سچ بھی کہیں
دنیا کو درکنار کر دیکھیں
شوق ٹکرانے کا ہو طوفاں سے
زلف جاناں سنوار کر دیکھیں
ہر شجر کو گلے لگاتے چل
عکس خوشبو یار کر دیکھیں
ہو کوئی حال قیس جیسا پھر
دل کی بات آشکار کر دیکھیں