پہنچا اسی بہانے مرا فن کمال کو

Qamar Malal (b. 1992)

پہنچا اسی بہانے مرا فن کمال کو

اردو سکھا رہا تھا میں اک خوش جمال کو

اس کا سراغ مل نہیں پایا کہ بارہا

دیکھا تلاش کر کے دل یرغمال کو

کھرچوں گا اپنے دل سے ترا ایک ایک نقش

جھٹکوں گا ذہن سے میں ترے ہر خیال کو

ہم کو امر رکھے گی ہماری سخنوری

ترسے گا یہ زمانہ ہمارے زوال کو

دفتر ہو قرب دوست ہو یا محفل سخن

تنہا ہر ایک بزم میں پایا ملالؔ کو