سنو کہ عشق و محبت کا تاجدار ہوں میں
Danish Asari (b. 1991)سنو کہ عشق و محبت کا تاجدار ہوں میں
محبتوں کے سفینے پہ اب سوار ہوں میں
گلاب کھلتے ہیں سینے میں میرے شعروں کے
سو شاخ گل کی طرح سے ہی خار دار ہوں میں
نہ ڈھونڈ اب تو مجھے زندگی کی راہوں میں
تری حیات کی گزری ہوئی بہار ہوں میں
یہ میرے شانے پہ جو سر ہے اک امانت ہے
صلیب عرصۂ ہستی پہ اک ادھار ہوں میں
خدائے پاک سفینہ اتار دے میرا
بہت زمانہ ہوا صرف انتظار ہوں میں
نہیں ہے خود مجھے اپنی ہی ذات پر کوئی حق
یہ کس نے کہہ دیا ہے اہل اختیار ہوں میں
ورق ورق پہ کئی نقش تھے نمایاں سے
انہی نقوش سے ابھرا سا اضطرار ہوں میں
خوشی کے نغمے سناؤں کہاں سے میں دانشؔ
غم و الم کی بہت لمبی اک قطار ہوں میں