Poetry
Poet
Meter
- ہماری ذات میں بستے سبھی ہیںہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیںObaid Haris (b. 1990)
- اپنا سچ اس کو سنانے کے لیےہم کو قصوں کا حوالہ چاہیئےObaid Haris (b. 1990)
- انہیں آگے نکل جانے دو حارثؔبلائیں کب سے پیچھا کر رہی ہیںObaid Haris (b. 1990)
- تہہ بہ تہہ کھلتی ہی رہتی ہے سدامیرؔ کے دیوان سی ہے زندگیObaid Haris (b. 1990)
- خالی دیوار بری لگتی ہےمیری تصویر ہی رہنے دیتےObaid Haris (b. 1990)
- صدائیں ڈوبتی ہیں جبخموشی مسکراتی ہےObaid Haris (b. 1990)
- کھولو نہ کوئی عیب کسی کا بھی یہاں پرآسیب کو مل جائے گا دروازہ کھلا ساObaid Haris (b. 1990)
- نیا چار دن میں پرانا ہوایہی سب ہوا تو نیا کیا ہواObaid Haris (b. 1990)
- وقت بدلا سوچ بدلی بات بدلیہم سے بچے کہہ رہے ہیں ہم نئے ہیںObaid Haris (b. 1990)
- ہم کتابوں میں جسے پاتے ہیں حارثؔآدمی ویسا کوئی ملتا کہاں ہےObaid Haris (b. 1990)
- جب میں نے کہا تھا تم سےکے مجھے تم سے محبت نہیںGeetanjali Rai (b. 1990)
- صبحوں جیسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نالگتا ہے کہ بہت الگ ہیں باقی لوگوں سےGeetanjali Rai (b. 1990)
- کیا ہر موت کے لئے ضروری ہوتی ہیںرکی ہوئی سانسیں پتھرائی آنکھیں چار کندھےGeetanjali Rai (b. 1990)
- مجھے نا سمجھنے والے کچھ نا سمجھنے والےاکثر ملتے ہیں اور آگے بھی ملتے رہیں گےGeetanjali Rai (b. 1990)
- اتوار کی دوپہر تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہےبالکل تمہاری طرحGeetanjali Rai (b. 1990)
- ارے آؤبے فکر ہو کے آؤGeetanjali Rai (b. 1990)
- جو لوگ تم سے نفرت کرتے ہوں گےاب کچھ تو کرتے ہی ہوں گےGeetanjali Rai (b. 1990)
- میرے لیے تمہارا پیار بالکل ویسا تھاجیسے چائے کے آخری گھونٹ میں دوسرے کپ کی طلبGeetanjali Rai (b. 1990)
- میں کیسے بھولوں وہ راتیںایک رستہ چاند بناتا تھا جو خوابوں تک لے جاتا تھاGeetanjali Rai (b. 1990)
- میں ندی ہوں اور مجھے فخر ہے اس بات کا کہ میں ندی ہوںچلتے رہنا میری عادت ہےGeetanjali Rai (b. 1990)
- میں نے پوچھا تھا ستاروں سےاور اس پیلے گلاب کی پنکھڑیوں سے بھیGeetanjali Rai (b. 1990)
- ادھ بجھی سگرٹیں پڑی ہوئی ہیںرائیگاں کوششیں پڑی ہوئی ہیںUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- جنوں کو طاری نہ کرتا تو اور کیا کرتافقیر مستی نہ کرتا تو اور کیا کرتاUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- جھوٹ کو سچ کے لبادے میں نہیں رکھوں گامیں کسی شخص کو دھوکے میں نہیں رکھوں گاUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- زمیں نہیں تھی زمیں پر کوئی مکاں نہیں تھامیں ان دنوں بھی کہیں تھا جب آسماں نہیں تھاUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- سمے کی ناؤ سے باہر نکل نہیں ہوتایہاں بس آج ہے اور آج کل نہیں ہوتاUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- غم ہے یا پھر یہ غم شناسی ہےمیرے اندر بہت اداسی ہےUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- کل بچھڑتے ہوئے ضبط کا مرحلہ اس قدر تلخ تھا کیا بتاؤں اخیمیری خاموشیوں کی چٹانوں کے اندر تھی میری صدا کیا بتاؤں اخیUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- گزشتہ خواب کی تعبیر میں لگا ہوا تھامیں اس کو چھونے کی تدبیر میں لگا ہوا تھاUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- یہ جو اک دائرہ بنایا ہےآگہی کا سرا بنایا ہےUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- یہ کیسا دل ہے کیسی دل لگی ہےترے ہوتے ہوئے بھی کچھ کمی ہےUmr Daraz Hashir (b. 1990)
- اب دیکھ رہے ہو نہ پذیرائی ہماریصد شکر زمانے کو سمجھ آئی ہماریFaisal Khayyam (b. 1990)
- برف رت کا جو گھاؤ ہوتا ہےاس کا مرہم الاؤ ہوتا ہےFaisal Khayyam (b. 1990)
- تمہاری گفتگو سے ہم کوئی مصرع نکالیں گےہمیں دفتر میں آ کر بھی یہی محسوس ہوتا ہےFaisal Khayyam (b. 1990)
- چترا اور جگجیت کا گایا ہواگیت ہے تو مجھ پہ فلمایا ہواFaisal Khayyam (b. 1990)
- سمندر میں اتارا جا رہا تھامجھے دھوکے سے مارا جا رہا تھاFaisal Khayyam (b. 1990)
- پرانے ٹھاؤں سے رہتی ہے لپٹیغریبی گاؤں سے رہتی ہے لپٹیVijay Rahi (b. 1990)
- تنہائی سے جب اکتا کے بیٹھ گیامیں پھر میخانے میں آ کے بیٹھ گیاVijay Rahi (b. 1990)
- کسی سے عشق کرنا چاہیئے تھامجھے حد سے گزرنا چاہیئے تھاVijay Rahi (b. 1990)
- مغروری میں کس کو کس کا دھیان رہادریا بھی اپنے کو ساگر مان رہاVijay Rahi (b. 1990)
- ہے اتنا مختصر قصہ ہمارایہاں کوئی نہیں اپنا ہماراVijay Rahi (b. 1990)
- درد ہی سے فقط بنی ہو کیازندگی اتنی ہی بری ہو کیاYamit Punetha Zaif (b. 1990)
- راز کتنے دبا گئی مٹیاچھے اچھوں کو کھا گئی مٹیYamit Punetha Zaif (b. 1990)
- گفتار میں چھلکا تری نمکین باتوں کا نمکتیری اجازت ہو تو چکھ لوں تیرے ہونٹھوں کا نمکYamit Punetha Zaif (b. 1990)
- عشق میں ہارا ہوا ہوں کامرانی کچھ نہیںمیرے حصہ میں صنم کی مہربانی کچھ نہیںSaarik Khan Saarik (b. 1990)
- ہم آج خود کو تمہارا غلام کرتے ہیںہر ایک سانس تمہارے ہی نام کرتے ہیںSaarik Khan Saarik (b. 1990)
- آج سخن کی شام کریں گےاپنے غم نیلام کریں گےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- اپنی آنکھوں سے نہ شوخی یوں نہ شوخی شوخیہے ابھی آگ بجھی پھر نہ لگاؤ شوخیOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- بے قراری کو بے قراری ہےکس کے گھر جاؤں کس کی باری ہےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)
- پلک سے اک اشارہ بس کئے جاتے تو رک جاتےنکلتے دم خفا ہو کر نہیں آتے تو رک جاتےOm Bhutkar Maghloob (b. 1991)