نہیں ہے یوں کہ فقط رات ہی نہیں کٹنی
Qamar Malal (b. 1992)نہیں ہے یوں کہ فقط رات ہی نہیں کٹنی
ترے بغیر تو یہ زندگی نہیں کٹنی
خوشی کے دن تو گزرنے ہیں چند لمحوں میں
گھڑی کوئی بھی مگر دکھ بھری نہیں کٹنی
بنے گی بات چراغ خودی کے جلنے سے
پرائی آگ سے یہ تیرگی نہیں کٹنی
ہے بے خودی سے عبارت یہ زندگی اے دوست
بغیر ساغر و بے شاعری نہیں کٹنی
رہے گی اس کے پلٹنے کی آرزو جب تک
قمر ملالؔ تری بے کلی نہیں کٹنی