حسن در حسن پھر آزمانے کے بعد
A.R Sahil 'Aleeg' (b. 1992)حسن در حسن پھر آزمانے کے بعد
خون رونا پڑا دل لگانے کے بعد
ان رقیبوں میں فوٹو کھنچانے کے بعد
کیا ملے گا تمہیں جی جلانے کے بعد
اس قدر مجھ پہ مرتی ہے پگلی کوئی
رونے لگتی ہے ڈی پی ہٹانے کے بعد
وہ پتنگ تھی کٹی اور چلی بھی گئی
ہاتھ دھاگا بچا بس اڑانے کے بعد
عشق تو دوریوں میں بھی مٹتا نہیں
روٹھتی ہے ہوس دور جانے کے بعد
لگ کے بہتی تھی ساحلؔ سے کل جو ندی
کٹ گئی مجھ سے ساگر میں جانے کے بعد