درد ہے رنج ہے کلفت ہے الم ہے غم ہے
Qamar Malal (b. 1992)درد ہے رنج ہے کلفت ہے الم ہے غم ہے
نہ خدا ساتھ نہ ہم راہ صنم ہے غم ہے
در بدر مجھ کو زمانے میں لیے پھرتا ہے
یہ جو پیوستہ مرے ساتھ شکم ہے غم ہے
راحت غم سے رکھا جس نے سدا آسودہ
ان دنوں وہ بھی تو مائل بہ کرم ہے غم ہے
اب تو طاؤس ہی اول ہے سناں آخر ہے
دور حاضر میں یہ تقدیر امم ہے غم ہے
اہل دربار سے بیزار تھا اک تو ہی ملالؔ
اب ترا سر بھی وہاں سنتے ہیں خم ہے غم ہے