لٹائے بیٹھا ہوں رخت سفر محبت میں

Faisal Imam Rizvi (b. 1988)

لٹائے بیٹھا ہوں رخت سفر محبت میں

لگائے بیٹھا ہوں میں گھر کا گھر محبت میں

کٹورے خون کے بھر بھر کے دینا پڑتے ہیں

تو جا کے آتا ہے کچھ کچھ اثر محبت میں

قدم قدم پہ زمانہ حریف ہوتا ہے

قدم قدم پہ بچھڑنے کا ڈر محبت میں

جلاؤ ہونٹ محبت کی پکی سگریٹ سے

پھرو اداس رہو در بدر محبت میں

حواس باختہ پھرتا ہوں ایک مدت سے

کہ اب تو جائے گا شاید یہ سر محبت میں

یہ آنکھ دیدۂ بینا نہیں بنا کرتی

لہو کی بوند نہ ٹپکے اگر محبت میں