یقین جاتا رہا اعتبار ختم ہوا

Faisal Imam Rizvi (b. 1988)

یقین جاتا رہا اعتبار ختم ہوا

تمہارے عشق کا سارا خمار ختم ہوا

کہاں سے لاؤں وہ ہنگامہ ہائے عشق و جنوں

وہ شعلہ آسا دل بے قرار ختم ہوا

نکل رہا ہوں ترے حلقۂ محبت سے

کہ گرد بیٹھ چکی اور غبار ختم ہوا

جہاں بہاریں تھیں اپنوں کی چہچہاہٹ تھی

وہ بے چراغ پڑا سبزہ زار ختم ہوا

لگا کے آگ کئی مہربان چلتے بنے

ہمارے شہر کا سب کاروبار ختم ہوا

خزاں کا دور ہے شاخوں پہ برگ و بار نہیں

تمہارے جاتے ہی عہد بہار ختم ہوا