نئی زمین عطا ہو نیا مکاں بھی بنے

Faisal Imam Rizvi (b. 1988)

نئی زمین عطا ہو نیا مکاں بھی بنے

ہمارے ہجر کا کچھ منفرد نشاں بھی بنے

چبھو لیا تری چوڑی کا شیشہ آنکھوں میں

ہماری آنکھ کا نقشہ لہولہاں بھی بنے

تمام ہجر-زدہ لوگ میرے ساتھ چلیں

فراق یار کے ماروں کا کارواں بھی بنے

کوئی صلہ نہیں پایا تمہاری چاہت میں

تمہارے واسطے لوگوں میں بد زباں بھی بنے

بہار آئی ہے پھولوں سے لد گئیں شاخیں

ہمارے نام کا اک غنچۂ دہاں بھی بنے

اگا رہا ہوں نئے پیڑ گھر کے آنگن میں

کوئی تو ہو جو مرے گھر کا سائباں بھی بنے

ہنر نہ علم نہ عقل و شعور تھا فیصلؔ

کچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی بنے