یاد الفت کی کہانی ہے الف سے ی تک

Ibrahim Noori (b. 1988)

یاد الفت کی کہانی ہے الف سے ی تک

یہ تجھے آج سنانی ہے الف سے ی تک

تجھ کو اک بات بتانی ہے الف سے ی تک

دوسری بات چھپانی ہے الف سے ی تک

ترا چہرہ فقط اک چہرہ نہیں ہے مرے دوست

ایک دریائے معانی ہے الف سے ی تک

دیکھ کر خانہ بدوشوں کو یہی سمجھا ہوں

زندگی نقل مکانی ہے الف سے ی تک

زندگی کیا ہے جو پوچھا تو کہا آنکھوں نے

زندگی اشک فشانی ہے الف سے ی تک

کوئی ناول کوئی تھیٹر کوئی افسانہ نہیں

زیست اک سچی کہانی ہے الف سے ی تک

ماننا ہوگی مری بات بھی تجھ کو پیارے

تری ہر بات جو مانی ہے الف سے ی تک

تھک چکا ہوں میں محبت کی کتابیں پڑھ کر

اب انہیں آگ لگانی ہے الف سے ی تک

سن کے یہ تازہ غزل مجھ سے وہ اک دم بولا

یہ غزل تیری پرانی ہے الف سے ی تک

ریگ صحرا پہ یہ لکھا ہے کسی نے نوریؔ

زندگی تشنہ دہانی ہے الف سے ی تک