خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوں
Charagh Barelvi (b. 1988)خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوں
میں اک سرائے کو ہر روز گھر بناتا ہوں
یہ کوئی دکھ ہے گلہ ہے یا کوئی پچھتاوا
میں کاغذوں پہ جو اکثر شجر بناتا ہوں
مرے مکان میں اب دھوپ بھی نہیں آتی
میں کس امید سے آخر یہ در بناتا ہوں
نگل ہی جائے کبھی تو سیاہ رات مجھے
میں اک چراغ بجھا کر یہ ڈر بناتا ہوں
میں جانتا ہوں کہ مٹی کے ہیں پرند کے پنکھ
بنا کے کچھ نہیں حاصل مگر بناتا ہوں