کسی کی زلف کسی کے لبوں کو چاہا تھا

Faisal Imam Rizvi (b. 1988)

کسی کی زلف کسی کے لبوں کو چاہا تھا

فریب دیتی ہوئی صورتوں کو چاہا تھا

ہے اس کے دل میں بھی اک آئنہ سا ٹوٹا ہوا

اور اس کو یاد ہے کن پتھروں کو چاہا تھا

وہ بارشیں وہ ہوائیں وہ بادلوں کے ہجوم

کسی کے پیار میں سب موسموں کو چاہا تھا

اداس کرتے ہوئے راستوں نے پوچھا ہے

کہاں گئے ہیں وہ جن دوستوں کو چاہا تھا

خود اپنے حال پہ ہم دونوں ہنس پڑے فیصلؔ

کہ ہم نے اپنے سوا دوسروں کو چاہا تھا