ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹی

Charagh Barelvi (b. 1988)

ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹی

کوزہ گر جانے کہ کس شکل ڈھلے گی مٹی

شہر کی گلیوں میں اک شور تھا دنیا دنیا

قبر گاہوں سے سدا آئی کہ مٹی مٹی

اس کی ضد تھی کہ ڈھلیں اس کی ہی ہم شرطوں پر

اور ہم لے کے چلے آئے ہیں اپنی مٹی

ایک مدت سے کوئی شکل نہیں ملتی ہمیں

تو نے کس چاک پہ رکھ دی یہ ہماری مٹی

ہم کہاں اور کسی ذات میں ہوتے ہیں نہاں

اپنی مٹی سے نہیں ملتی کسی کی مٹی

چھان کر دیکھنا مل جائیں گی میری کرچیں

تیرے آنگن میں جو اک صبح ملے گی مٹی

دشت ہی دشت نظر آتا ہے مجھ کو اے ہوا

تو نے ڈالی ہے مری آنکھ میں کیسی مٹی

ختم ہوتا ہی نہیں ہے کسی خواہش کا طواف

کیوں کسی چاک کو ملتی نہیں اچھی مٹی