میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئے
Aadil Farhat (b. 1984)میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئے
اسے ترس نہیں آیا مجھے بجھاتے ہوئے
ترے وصال سے بہتر تو ہجر ہوتا ہے
ترے قریب میں آتا ہوں دور جاتے ہوئے
نجانے کون سے کوزہ گروں کے ہاتھ لگا
بہت ادھیڑا گیا ہے مجھے بناتے ہوئے
مہک بدن سے ابھی تک نہیں گئی اس کی
وہ جس نے خوشبو بکھیری گلے لگاتے ہوئے
عجیب طرح کی وحشت ہے میرے چاروں طرف
کہ اب تو خواب بھی ڈرتے ہیں مجھ تک آتے ہوئے
مجھ ایسے شخص کو ضائع کیا گیا فرحتؔ
بھلا دی جیسے کوئی شے کہیں چھپاتے ہوئے