خوشی کے دن ہوں تو اجلا لباس سب پہنیں

Yawar Azeem (b. 1984)

خوشی کے دن ہوں تو اجلا لباس سب پہنیں

اور ایک ہم کہ وہی جامۂ تعب پہنیں

اتاریں اپنے بدن سے اکیلے پن کی دھوپ

کسی نگاہ کو اوڑھیں کسی کے لب پہنیں

بوقت صبح پہن لیں گے پھر لبادۂ خشک

نم وصال ہی اچھا ہے شب کی شب پہنیں

خریدا اور سلایا بھی استری بھی کیا

مگر سمجھ نہیں آتی وہ سوٹ کب پہنیں

عجیب ان کے رویوں میں بد تمیزی ہے

یہ اہل شہر کبھی جامۂ ادب پہنیں

پہننے کی ہمیں آزادی مل رہی ہے مگر

سماج جس کو سمجھتا ہے ما وجب پہنیں

ہمارے دل نے گوارا نہیں کیا یاورؔ

ہم اس کے ہجر میں پیراہن طرب پہنیں