مرے کاغذ پہ ہیں لفظوں کے تابندہ ستارے

Yawar Azeem (b. 1984)

مرے کاغذ پہ ہیں لفظوں کے تابندہ ستارے

زمین شعر سے نکلے درخشندہ ستارے

بساط رفتگان فن لپیٹی جا چکی ہے

سر چرخ ہنر موجود ہیں زندہ ستارے

مقدر کی لکیریں کھینچنے والا خدا ہے

نہیں ہوتے مقدر کے نویسندہ ستارے

ندامت کے سبب کیا منہ دکھائیں گے سحر کو

کہ ہیں جرم تنک تابی پہ شرمندہ ستارے

نہ ہوں گے بیعت شب کے لیے تیار ہرگز

وہ موجودہ ستارے ہوں کہ آئندہ ستارے

فصیل وقت پر کندہ رہے گا نام اپنا

کہ ہم ہیں عہد حاضر کے نمائندہ ستارے

زمیں کے گوشے گوشے پر نظر رکھتے ہیں یاورؔ

جمال صبح فردا کے ہیں جوئندہ ستارے