بنا لیتا میں تجھ کو ہم سفر کچھ سال پہلے تک
Yawar Azeem (b. 1984)بنا لیتا میں تجھ کو ہم سفر کچھ سال پہلے تک
مگر اس بات سے لگتا تھا ڈر کچھ سال پہلے تک
مجھے فکر معیشت تھی تجھے خوف جدائی تھا
الگ تھے زاویہ ہائے نظر کچھ سال پہلے تک
میں ناداں تھا اسے اپنے تصرف میں نہیں لایا
بہت نزدیک تھی شاخ ثمر کچھ سال پہلے تک
تری درویش آنکھوں کا ارادت مند بن جاتا
تو مجھ کو مل گئی ہوتی اگر کچھ سال پہلے تک
انہیں چن چن کے تیرے عشق کا ایندھن بنا دیتا
یہ ماہ و سال سالے تھے کدھر کچھ سال پہلے تک
ترے گالوں کے ڈمپل میں نگاہیں ڈوب جاتی تھیں
لہو میں رقص کرتے تھے بھنور کچھ سال پہلے تک
مجھے یاور عظیمؔ اب تک وہ آنکھیں یاد آتی ہیں
میں ان پلکوں کے تھا زیر اثر کچھ سال پہلے تک